کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 265

کلامِ طاہر — Page 64

0 کشکول میں بھر دے جو مِرے دل میں گھر ا ہے۔جو درد سکتے ہوئے حرفوں میں ڈھلا ہے شاید کہ یہ آغوشِ جُدائی میں پلا ہے غم دے کے کے فکر مریض شب غم ہے یہ کون ہے جو درد میں رس گھول رہا ہے یہ کس نے میرے درد کو جینے کی طلب دی دل کس کے لئے عمر خطر مانگ رہا ہے ہر روز نئے فکر ہیں ، ہر شب ہیں نئے غم یا رب یہ مرا دل ہے کہ مہمان سرا ہے ہیں کس کے بدن دیس میں پابند سلاسل پردیس میں اک رُوح گرفتار بلا ہے کیا تم کو خبر ہے کہ مولا کے اسیرو! تم سے مجھے اک رشتہ جہاں سب سے سوا ہے آ جاتے ہو کرتے ہو ملا قات شب و روز یہ سلسلہ ربط بہم صبح و مسا ہے اے تنگی زنداں کے ستائے ہوئے مہمان کا حکم ہے ، دل باز ، درسینہ گھلا تم نے مری جلوت میں نئے رنگ بھرے ہیں تم نے مری تنہائیوں میں ساتھ دیا ہے تم چاندنی راتوں میں مرے پاس رہے ہو تم سے ہی میری نظر کی ٹیموں میں ضیا ہے وا ہے 64