کلامِ طاہر — Page 44
ہم آن ملیں گے متوالو! ہم آن ملیں گے متوالو ، بس دیر ہے گل یا پرسوں کی تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ، دید کے ترسوں کی ، ہم آمنے سامنے بیٹھیں گے تو فرط طرب دونوں کی آنکھیں ساون برسائیں گی اور پیاس بجھے گی برسوں کی ثم دُور دُور کے دیسوں سے جب قافلہ قافلہ آؤ گے تو میرے دل کے کھیتوں میں ، پھولیں گی فصلیں سرسوں کی یہ عشق و وفا کے کھیت رضا کے خوشوں سے لد جائیں گے موسم بدلیں گے ، رُت آئے گی سائن ! پیار کے درسوں کی میرے بھولے بھالے حبیب مجھے لکھ لکھ کر کیا سمجھاتے ہیں کیا ایک اُنہی کو دُکھ دیتی ہے ، جدائی لمبے عرصوں لی؟ 44