کلامِ طاہر — Page 27
تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے ، مری دعائیں تمہاری دولت تمہارے درد و الم سے تر ہیں مرے سجود و قیام کہنا تمہیں مٹانے کا زعم لے کر اُٹھے ہیں جو خاک کے بگولے خدا اُڑا دے گا خاک اُن کی ، کرے گا رُسوائے عام کہنا خدا کے شیرو! تمہیں نہیں زیب خوف جنگل کے باسیوں کا گرجتے آگے بڑھو کہ زیر نگیں کرو بساط دنیا اُلٹ رہی رہی ہے فتح جهان ہر مقام کہنا حسین اور پائیدار نقشے بدل رہا ہے نظام۔کہنا کہنا کو کے اُبھر رہے ہیں و ظفر تھائی تمہیں خدا نے اب آسماں پر فتح نشان ظفر ہے لکھا گیا تمہارے ہی نام بڑھے چلو شاہراہ دین متیں درانا سائیاں ہے تمہارے سر پر خدا کی رحمت قدم قدم گام گام کہنا (جلسہ سالانہ یو کے ۱۹۸۶ء) 27