کلامِ طاہر — Page 20
کیا ادا ہے میرے خالق ، میرے مالک ، میرے گھر چھپ کے چوروں کی طرح رات کو آنے والے راہ گیروں کے بسیروں میں ٹھکانا کر کے ہے ٹھکانوں کو بنا ڈالا ٹھکانے والے مجھ سے بڑھ کر میری بخشش کے بہانوں کی تلاش کس نے دیکھے تھے کبھی ایسے بہانے والے تو تو ایسا نہیں محبوب کوئی اور ہوں گے تو تو وہ جو کہلاتے ہیں دل توڑ کے جانے والے ہر بار سر ره سے پکٹ آتا ہے دل میں ہر سمت پل پل میرے آنے والے مجھ سے بھی تو کبھی کہہ رَاضِيــة مـــــرضــــــه بیتاب ہے رُوحوں کو بلانے اس طرف بھی ہو کبھی ، کاشف اسرار ، نگاه می روح ہم بھی والے ہیں ایک تمنا کے چھپانے والے درد کو سینے میں بسانے والے اپنی پلکوں مے اشک سجانے والے 20