کلامِ طاہر — Page 21
خاک آلوده ، پراگنده زبوں حالوں کو کھینچ کر قدموں ނ زانو بٹھانے والے شکایت آقا! میں کہاں اور کہاں حرف ہاں یونہی ہوں اُٹھتے ہیں ستانے والے ہو اجازت تو تیرے پاؤں پہ سر رکھ کے کہوں کیا ہوئے دن تیری غیرت کے دکھانے والے ہو روتے ہی رہ جائیں ترے در کے فقیر اور ہنس ہنس کے روانہ ہوں رُلانے والے ہم نہ ہوں گے تو ہمیں کیا ؟ کوئی کل کیا وقت آج دکھلا دیکھے جو دکھانا ہے دکھانے والے ہے وقت مسیحا کسی اور کا وقت کون ہیں تیری تحریر مٹانے والے چھین لے ان سے زمانے کی عناں مالک وقت 6 بنے پھرتے ہیں کم اوقات - زمانے والے چشم گردُوں نے کبھی پھر نہیں دیکھے وہ لوگ آئے پہلے بھی تو تھے آکے بھی تو تھے آکے نہ جانے والے 21