کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 265

کلامِ طاہر — Page 193

تحتَ الثّرى درست نہیں۔یہ لفظ تَحتُ الشَّریٰ“ ہے۔فیروز اللغات میں بھی اسے تحتُ الشَّریٰ“ ہی لکھا ہے۔۔۔☆ لفظ گرفتار نہیں اگر چہ عموماً بولا اسی طرح جاتا ہے۔لغت کی کتابیں چیک کی ہیں۔اس کا صحیح تلفظ گرفتار ہے۔“ ☆ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ“۔اردو میں تو زُهَقَ الباطل ٹھیک ہے۔لیکن آیت کریمہ میں اس پر پیش موجود ہے۔تا ہم عربی میں جس لفظ پر بھی قاری ٹھہرتا ہے وہ اس کی آخری حرکت کو نہیں پڑھتا لیکن حرکت اسی طرح لکھی جاتی ہے۔صرف وقف کی وجہ سے پڑھنے میں نہیں آتی۔اس لئے پیش ضرور ڈالیں۔لیکن نیچے نوٹ دے دیں کہ شعر میں چونکہ یہاں وقف کرنا ہے۔اس لئے حرکت نہیں پڑھی جائے گی۔بلکہ باطل کی بجائے باطن پڑھا جائے گا۔“ ☆ آپ نے مسودہ میں اویس کے نیچے تصحیح کرتے ہوئے الف کی زبر کے ساتھ اسے اولیس لکھا ہے۔یہ لفظ اولیس ہے ، الف کی پیش کے ساتھ۔اسے اولیس لکھنا یا پڑھنا غلط ہے۔عربی لغت کی کتابوں لسان العرب، القاموس المحیط اور المنجد وغیرہ میں اولیس ہی لکھا ہے۔“ مسودہ میں جاں لکھا ہے۔یہ جاں نہیں بلکہ نون کے ساتھ جان ہے۔ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر آپ کو گہری نظر رکھنی پڑے گی اور جہاں جہاں میں نے اعراب کو واضح کیا ہے۔وہاں آئندہ مسودہ واضح کر کے لگوائیں۔ان میں سے کوئی حرکت زیر زبر چھوٹنے نہ پائے۔سب اعراب اس مقصد سے لگائے جانے چاہئیں کہ آجکل کے اردو پڑھنے والے بھی عربی کی طرح اعراب کے محتاج ہو چکے ہیں۔خصوصاً پاکستان سے باہر پیدا ہونے والے تو اس کے بہت محتاج ہیں۔“ لفظ خاتم کے معنی ختم کرنے والا درست نہیں۔ت کی زبر کے ساتھ اس کے معنی انگوٹھی اور مہر کے ہوتے ہیں۔اور مرا دسب سے اعلیٰ ، سب سے افضل۔جس پر مقام ختم ہو جائے اور ہر 39 39