کلامِ طاہر — Page 182
لئے اسی طرح رہنے دیں۔☆۔۔نظم نمبر۔مكتوب ١٦ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۲۱) کیا حال تمہارا ہو گا جب شد او ملائک آئیں گے آپ نے مسودہ میں شداد کے معانی کی وضاحت کرتے ہوئے حاشیہ میں سورۃ تحریم کی آیت لائِكَةٌ غَلَاظٌ شِداد کا جو حوالہ دیا ہے وہ اطلاق نہیں پاتا، یہ آیت نہ لکھیں کیونکہ هند او پر شداد کی مثال صادق نہیں آتی۔اگر اس کا حوالہ دینا ہے تو پھر لکھ دیں کہ اگر چہ آیت میں لفظ شداد ہے لیکن اُردو میں یہی معنی لفظ شداد سے ادا ہوتا ہے۔خد ادقوم عاد کے اس بادشاہ کا نام ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا تھا اور شعر کہتے وقت یہی میرے پیش نظر تھا۔دوسرے لغوی لحاظ سے آیت میں جو لفظ شداد ہے وہ شدید کی جمع ہے۔شدید کی جمع کی دوسری مثال قرآن کریم میں اشراء بھی آئی ہے جبکہ میں نے لفظ شد اداستعمال کیا ہے جو کہ شدید سے مبالغہ کا صیغہ ہے اس لئے اگر چہ معنوی طور پر یہاں بھی مراد وہی ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ قرآن کریم کا حوالہ دینے کی بجائے لغت کا حوالہ دیں کہ یہ شدید سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے بہت زیادہ تختی کرنے والا یہ قوم عاد کے ایک بادشاہ کا نام بھی ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔لغت کے حوالے سے بس یہ نوٹ دے دیں۔آزاد کہاں وہ ملک جہاں قابض ہو سیاست پر ملاں خاکسار نے عرض کی کہ ملاں میں نون غنہ غیر ضروری ہے۔آپ نے تحریر فرمایا: " آپ کی یہ تجویز کہ لفظ ملاں کی بجائے مثلاً ہونا چاہئے ں کی ضرورت نہیں۔آپ سے اتفاق ہے۔نون غنہ کٹوا دیں۔آپ کی اس بہت عمدہ تجویز پر بے حد جزاکم اللہ احسن الجزاء۔(مکتوب ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۳ء) 28 ☆۔۔۔۔