کلامِ طاہر — Page 169
نظم اے شاہ مکی و مدنی سید الوری کے ایک مصرع - اے میرے والے مصطفیٰ اے میرے مجتبی کے متعلق پیارے آقا نے خاکسار کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے وضاحت سے، دلائل سے علمی وزن کے ساتھ ایک اچھوتا نقطہ بیان فرمایا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: ”آپ نے میرے والے مصطفی میں لفظ والے کو قتم سمجھتے ہوئے تو ہی تو مصطفیٰ ہے مرا تجویز کیا ہے۔یہ دو وجوہات سے مجھے قبول نہیں۔ایک یہ کہ اس نظم کی شان نزول تو ایک رویا میں ہے جس میں ایک شخص کو دیکھا جو بڑی پُر درد آواز میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی کلام پڑھ رہا ہے۔ان شعروں کا عمومی مضمون تو مجھے یا در ہا مگر الفاظ یاد نہیں رہے البتہ ایک مصرع جو غیر معمولی طور پر دل پر اثر کرنے والا تھا وہ ان الفاظ پر مشتمل تھا: اے میرے والے مصطفی خواب میں اس کا جو مفہوم سمجھ میں آیا وہ یہ تھا کہ لفظ والے نے بجائے اس کے کہ نقم پیدا کیا ہو اس میں ) غیر معمولی اپنائیت بھر دی اور قرآن کریم کی بعض آیات کی بھی تشریح کر دی جن کی طرف پہلے میری توجہ نہیں تھی۔عموما یہ تاثر ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی مصطفیٰ ہیں حالانکہ قرآن کریم میں حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم (اسحق ، یعقوب ، اسمعیل ) حضرت موسیٰ اور حضرت مریم حتی کہ بنی آدم کے لئے بھی لفظ اصطفی استعمال ہوا ہے۔تو مصطفیٰ ایک نہیں، کئی ہیں۔پس اگر یہ کہنا ہو کہ باقی بھی مصطفیٰ ہونگے مگر میرے والا مصطفیٰ یہ ہے تو اس کا اظہاران الفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ میں ممکن نہیں۔یہ بات ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی بچہ ضد کرے کہ مجھے میرے والی چیز دو۔میرے والی کہنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ مجھے محض یہ چیز نہیں چاہئے بلکہ وہی چیز 15