کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 265

کلامِ طاہر — Page 166

نہ دن دان اور دں داں پڑھا جاتا ہے۔آپ کے اصرار نے تو مجھے انگشت بدنداں کر دیا ہے کہ آپ اندھیروں پر اندھیرے کو سویروں پر سویرے کے وزن پر پڑھنا چاہتی ہیں جبکہ میں اسے قندیلوں پر قندیلیں اور زنجیروں پر زنجیروں کے وزن پر پڑھتا ہوں نہ زن جیریں“۔بعد میں آپ نے اس مصرع کو تبدیل فرما دیا: تاریکی په تاریکی گمراہی پر گمراہ آیاد فنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی (مكتوب ۵/ دسمبر ۱۹۹۳ء) چوتھے بند کے پہلے شعر آیا وہ غنی جس کو جو اپنی دعا پہنچی، میں آپ نے جو کو جب سے بدل دیا ہے۔سمجھ نہیں آئی کہ کیوں جب سے بدلا گیا ہے اصل میں جو اور جب میں ایک بہت لطیف فرق ہے جس کو وہی جان سکتا ہے جس نے جان کا ہی سے معنوں کی تہ میں اتر کر الفاظ کا چناؤ کیا ہو۔جب اپنی دعا پہنچی کا تو مطلب یہ ہے کہ بس ہماری دعا کی دیر تھی جیسے ہی پہنچی لگ گئی۔حالانکہ کلمہ طیبہ کے لئے یرفعه العمل الصالح بھی ہونا چاہئے۔یہ تو نہیں کہ جس کسی نے درود شریف پڑھاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جا پہنچا۔خاص کیفیات میں اٹھتی ہوئی دعا ہی ہے جو رفعتوں کو پاتی ہے اور وہی ہے جو مقدر سنوارا کرتی ہے۔اس لئے جو ہی رہنے دیں۔وہی دعا بخت سنوار سکتی ہے جو اس تک پہنچنے کی سعادت پا جائے۔جو میں جو انکسار ہے اس کا لطف جب میں نہیں۔☆ (مکتوب ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۶) نظم ” ظہور خیر الانبیاء سے خاکسار کو بے حد پیار تھا۔نظم حضور کی ہے اضافے بھی آپ نے خود 12