کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 265

کلامِ طاہر — Page 134

باپ کی ایک غم زدو بیٹی باپ کی ایک غم زدہ بیٹی کے بعد دی مسکرائی ہے مگر پھر بھی مسکراہٹ لیوں آئی ہے پر آنکھ نمناک ہے کہنے لگی کہ کیوں ابا آپ اتنے اداس بیٹھے ہیں سب کو غمگین کر دیا ہے جو آپ کے آس پاس بیٹھے ہیں اپنے دل میں بسا کے میرا غم کب تلک میرا درد پالیں گے میرے دکھ کو لگا کے سینے سے کیا میرا ہر ستم اٹھا لیں گے پ کی بیٹیاں ہیں اور بھی جو اپنوں ، غیروں کے ظلم سہتی ہیں اپنے ماں باپ سے بھی چھپ چھپ کر راز دل آپ ہی سے کہتی ہیں سب احمد کی بچیاں 134