کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 265

کلامِ طاہر — Page 102

چمن میں وہ گل رعنا جو خاک سے اٹھے اکھاڑنے میں اسے تم کو کچھ ملال نہ ہو وہ پھول ہو کے بھی آنکھوں میں خار سا کھٹکے ہو تو ایسا زخم لگاؤ کہ اند مال نہ لاکھ علم و عمل کا ہو ایک اوجِ کمال فقط وہ غازی گفتار و قیل و قال نہ ہو مگر سب اہل وطن یہ بھی سوچ لیں کہ کہیں لباس تقوی میں لیٹی یہ کوئی چال نہ ہو میرے وطن مجھے تیرے افق شکوه ނ کہ اس وہ ہے ثبت ہے عبدالسلام نام کا چاند اسے ڈبو کے کوئی اور اچھال کام کا چاند تو یہ کرے تو کبھی تجھ پہ پھر زوال نہ ہو ہر ایک شہری ہو آسودہ ہر کوئی ہو نہال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو 102