کلام محمود مع فرہنگ — Page 61
24 میں نے جس دن سے ہے پیارے ترا چہرہ دیکھا پھر نہیں اور کسی کا رُخ زیبا دیکھا سچ کہوں گا کہ نہیں دیکھی یہ خوبی ان میں اره يُوسُف و اندازِ زُکیا دیکھا خاک کے پتلے تو دُنیا میں بہت دیکھے تھے پر کبھی ایسا نہ تھا نور کا پتلا دیکھا جب کبھی دیکھی ہیں یہ تیری غزالی آنکھیں میں نے دُنیا میں ہی فردوس کا نقشہ دیکھا تیرے جاتے ہی ترا خیال چلا آتا ہے تیرے جانے میں بھی آنے کا تماشا دیکھا تیری آنکھوں میں ہے دکھی ملک الموت کی آنکھ ہم نے ہاتھوں میں تیرے قبضہ قضا کا دیکھا مشترکی بھی ہے ترا مشتری اے جان جہاں اس نے جس دن سے ہے تیرا رخ زیبا دیکھا 61