کلام محمود مع فرہنگ — Page 60
دُنیائے دُوں کو آگ لگاتے تو خوب تھا کوچہ میں اس کے دُھونی رماتے تو خوب تھا آب حیات پی کے خضر تم نے کیا لیا تم اس کی رو میں خون گنڈھاتے تو خوب تھا اے کاش با عقل عشق میں دیتی ہمیں جواب دیوانہ وار شور مچاتے تو خُوب تھا مدت سے میں بھٹک رہے وادی میں عشق کی وہ خود ہی آگے راہ دکھاتے تو خوب تھا عزت بھی اس کی دُوری میں بے آبروئی ہے کوچہ میں اس کے خاک اُڑاتے تو خوب تھا بحر گنہ میں پھر کبھی کشتی نہ ڈوبتی ہم نا خُدا خُدا کو بناتے تو خوب تھا فُرقت میں اپنا حال ہوا ہے یہاں جو غیر احباب اُن کو جاکے سُناتے تو خوب تھا اخبار بدر جلد 8 - 14 جنوری 1909 ء 60 60