کلام محمود مع فرہنگ — Page 58
وہ ہیں فردوس میں شاداں گرفتار ملا ہوں میں وہ غمگیں ہو نہیں سکتے میں خنداں ہو نہیں سکتا معافی دے نہ جب تک وہ میرے سارے گناہوں کی جدا ہاتھوں سے میرے اُس کا داماں ہو نہیں سکتا ہر اک دم اپنی قدرت کے انھیں جلسے دکھاتا ہے جو اس کے ہور ہیں پھر ان سے پنہاں ہو نہیں سکتا ہزاروں حسرتوں کا روز دل میں خُون ہوتا ہے کبھی ویران یہ گنج شہیداں ہو نہیں سکتا مثال کوه آتش بار کرتا ہوں فعال ہر دم کسی کا مجھ سے بڑھ کر سینہ پریاں ہو نہیں سکتا ہوں اتنا منفعل اس سے کہ بولا ایک نہیں جاتا میں اُس سے مغفرت کا بھی تو خواہاں ہو نہیں سکتا کیا تھا پہلے دل کا خون اب جاں لے کے چھوڑیں گے دیث کا بھی تو میں اس ڈر سے خواہاں ہو نہیں سکتا اخبار بدر جلد 7- 22 اکتوبر 1908 ء 58