کلام محمود مع فرہنگ — Page 310
165 جونہی دیکھا اُنھیں چشمہ محبت کا اہل آیا درخت عشق میں مایوسیوں کے بعد پھل آیا خطائیں رکیں، جفائیں کیں، مراک ناکردنی کرلی ر کیا سب کچھ گھر پیشانی پر اُن کے نہ بل آیا مُلمع ساز اس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں دُنیا میں مگر وہ عاشق صادق کے پہلو سے نکل آیا امیدیں روز ہی ہوتی تھیں پیدا شکل کو لے کر مگر قلب حزیں کو صبر آج آیا، نہ کل آیا نہیں بے چارگی و جبر کا دخل ان کی تفصیل میں جو آیا ان کی محفل میں ڈھ چل کے سر کے بل آیا ( لا جولائی 1951 ء دوران سفر کیس) اخبار الفضل بلد 5 لاہور پاکستان 28 نومبر 1951 ء 308