کلام محمود مع فرہنگ — Page 311
166 آؤ تمھیں بتائیں محبت کے راز ہم چھیڑیں تمھاری رُوح کے خوابیدہ ساز ہم میدانِ عشق میں ہیں رہے پیش پیش وه محمود بن گئے وہ بنے جب ایاز ہم بطحا سے نکلے وہ کبھی سینا سے آئے وہ جدت طرازہ وہ ہیں کہ جدت طراز ہم ایسی وفا ملے گی ہمیں اور کس جگہ آئیں گے اُن کے عشق سے ہرگز نہ باز ہم وہ آئے اور عشق کا اظہار کر دیا پڑھتے رہے اندھیرے میں چُھپ کر نماز ہم عشق صنم سے عشق خُدا غیر چیز ہے اس رہ کے جانتے ہیں نشیب و فراز ہم اک ذرہ حقیر کی قیمت ہی کیا بھلا کرتے ہیں اُن کے لطف کے بل پر ہی ناز ہم گاتے ہیں جب فرشتے کوئی نغمہ جدید ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں فوراً ہی ساز ہم 309 اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 6 دسمبر 1951ء