کلام محمود مع فرہنگ — Page 290
149 حریم مقدس کے ساکن کو نام سے کیا کام ہوا و حرص کے بندہ کو کام سے کیا کام ہو لا مکان تو حضر محام سے کیا کام جو ہر جگہ ہو اسے اک مقام سے کیا کام رین عشق کو کیف مدام سے کیا کام پائیے مجھے آنھوں سے جام سے کیا کام ہر ایک حال میں ہے کب پیر سے نام خدا خدا پرست ہوں میں رام رام سے کیا کام سُبُوئے دل کو ڈبوتا ہوں جوئے رحمت ہیں مجھے ہے ساغر و مینا و جام سے کیا کام ہے میرے دل میں محمد تو اس کے دل میں ہیں مجھے پیامبروں کے پیام سے کیا کام مجھے پانی ہو ساتی تو اکبر رحمت بھیج بغیر اکبر کے مہیا و جام سے کیا کام ہوتی میرا حبیب تو بستا ہے میری آنکھوں میں مجھے حسینوں کے در اور بام سے کیا کام دراور جو اُس کی ذات میں کھو بیٹھے اپنی ہستی کو اُسے ہو اپنے پرایوں کے نام سے کیا کام کبھی بھی عشق میں سودے ہوا نہیں کرتے جو جاں ہی دینے پہ آئے تو دام سے کیا کام مند عزم پر جو ہو گیا سوار تو پھر اُسے رکاب سے مطلب نگام سے کیا کام اُسے تو موت کے سایہ ہی مل سکی ہے حیات شہی عشق کو عیش دوام سے کیا کام مجھے خُدا نے سکھایا ہے علم ربانی مجھے سے فلسفہ منطق ، کلام سے کیا کام 288