کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 198

84 ہے زمیں پر سر میرا لیکن وہی مسجود ہے آنکھ سے اوجھیل ہے گو دل میں وہی موجود ہے مطلقا غیر از فت راہ بقا مسدود ہے میٹ گیا جو راہ میں اس کی وہی موجود ہے سوچتا کوئی نہیں فردوس کیوں کھو ہے آرزو باقی ہے لیکن مدک مفقود ہے شاید اس کے دل میں آیا میری جانب سے غبار آسماں چاروں طرف سے کیوں غبار آلود ہے دُهُ تاایک دہ مرا ہے تا ایک میں ہوں اُسی کا از ازن مجھ کو کیا خور و جناں سے وہ مرا مقصود ہے انتیاج اک نقص ہے جلوہ گری ہے اک کہاں مقتضائے حُسن ستر شاہد و مشہود ہے بے مہر کو پوچھتا ہی کون ہے دنیا میں آج ہے کوئی تو تجھ میں جو ہر تو اگر منسود ہے مانگ پر ہوتی ہے پیدا وار چونکہ وہ نہیں جنس تقویٰ اس لیے دنیا سے اب مفقود ہے کیوں نہ پاؤں اُس کی درگہ سے جزائے بے حساب ہے میری نیت تو بے حد کو عمل محدود ہے دل کی حالت پر کسی بندے کو ہو کیا اطلاع بس وہی محمود ہے جو اس کے ہاں محمود ہے مدعا ہے میری بستی کا کہ مانگوں بار بار مقتضا اُن کی طبیعت کا سخا وجود ہے سخاو باپ کی سنت کو چھوڑا ہو گیا صید ہوا ابن آدم بارگہ سے اس لیے منظرود ہے جب تلک تدبیر پنجہ کنش نہ ہو تقدیر سے آرزو بے فائدہ ہے التجا بے سود ہے عشق و بے کاری اکٹھے ہو نہیں سکتے کبھی عرصہ سعی محبتاں تا ابد محدود ہے از احمدی جنتری 1928 مطبوعہ دسمبر 1927 عمر 196