کلام محمود مع فرہنگ — Page 197
کبھی نکلے نہ دل سے یاد تیری کبھی سر سے نہ تیرا دھیان نکلے نہ کی ہم نے کمی کچھ مانگنے میں مگر تم پخششوں کی کان نکلے سمجھتا تھا کہ ہوں صید مصائب مگر سوچا تو سب احسان نکلے از احمدی جنتری 1928 مطبوعہ دسمبر 1927 عمر 195
by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad
کبھی نکلے نہ دل سے یاد تیری کبھی سر سے نہ تیرا دھیان نکلے نہ کی ہم نے کمی کچھ مانگنے میں مگر تم پخششوں کی کان نکلے سمجھتا تھا کہ ہوں صید مصائب مگر سوچا تو سب احسان نکلے از احمدی جنتری 1928 مطبوعہ دسمبر 1927 عمر 195