کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 73

29 مجھ سا نہ اس جہاں میں کوئی دل نگار ہو جس کا نہ یار ہو نہ کوئی غم گسار ہو کتنی ہی پل صراط کی گوتیز دھار ہو یا رب میرا وہاں بھی قدم استوار ہو دل چاہتا ہے طھور کا وہ لالہ زار ہو اور آسماں پر جلوہ گناں میرا یار ہو ساقی ہوئے ہو جام ہو، ابر بہار ہو اتنی پہیوں کہ حشر کے دن بھی خُمار ہو جس سر پہ بھوت عشق صخہ کا سوار ہو قیمت یہی ہے اس کی کہ دنیا میں خوار ہو تقوی کی جڑ یہی ہے کہ خالق سے پیار ہو گو ہاتھ کام میں ہوں مگر دل میں یار ہو دنیا کے عیش اس پر سراسر ہیں پھر حرام پہلو میں جس کے ایک دلِ بے قرار ہو وہ مکلف ہے کاش ہیں کہ آرام میں نہیں تیر نگاہ کیوں میرے سینہ کے پار ہو رنج فراق گل نہ کبھی ہو سکے بیاں میرے مقابلہ میں ہزاروں ہزار ہو جاں چاہتی ہے تجھ پہ نکلنا اے میری ماں دل کی یہ آرزو ہے کہ تجھ پہ نثار ہو کیسا فقیر ہے وہ جو دل کا نہ ہونی وہ زار کیا جو رنج مصیبت سے زار ہو خضر ویسے بھی نہ بچے جبکہ موت سے پھر زندگی کا اور کیسے اعتبار ہو سُنتے ہیں بعد مرگ ہی ملتا ہے وہ ہم مرنے کے بعد ہو جو ہمارا سنگار ہو میں کیوں پھروں کہ خالی نہیں آج تک پھرا جو تیرے فضل و رحم کا امیدار ہو 73