کلام محمود مع فرہنگ — Page 69
27 دہ چہرہ ہر روز ہیں دکھاتے رقیب کو تو چھپا چھپا کر وہ ہم ہی آفت زدہ ہیں جن سے چھپاتے ہیں منہ دکھا دکھا کر ہے مارا اک کو ڈلا ڈلا کر تو دوسرے کو ہنسا ہنشاکر جگر کے ٹکڑے کئے ہیں کس نے یہ دل کی حالت دکھا دکھا کر اُڑائیے گا نہ ہوش میرے غزالی آنکھیں دکھا دکھا کر چھری ہے چلتی دل دیگر پر نہ کیجھے باتیں چبا چبا کر کوئی وہ دن تھا کہ پاس اپنے وہ تھے بٹھاتے بلا بلا کر نکالتے ہیں مگر وہاں سے دھتا مجھے اب بتا بتا کر فراق جاناں نے دل کو دوزخ بنا دیا ہے جلا جلا کر یہ آگ بجھتی نہیں ہے مجھ سے میں تھک گیا ہوں بجھا بجھا کر جو ہے رقیبوں سے تم کو اگفت تو دل میں پوشیدہ رکھو اس کو مجھے ہو دیوانہ کیوں بناتے بنا بنا کر جتا جتا کر مجھے سمجھتے ہو کیا تھی تم کہ نت نئے بوجھ لادتے ہو بس اب تو جانے دو تھک گیا ہوں غم ومصیبت اٹھا اٹھا کر 69