کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 70

پڑے بلا جس کے سر پہ آکر اُسے وہی خوب جانتا ہے تماشا کیا دیکھتے ہو صاحب ہمارے دل کو دکھا دکھا کر کبھی جو تعریف کیجئے تو وہ کہتے ہیں یوں بگڑ بگڑ کر مزاج میرا پگاڑتے ہیں بنا بنا کر بت بناکر رہا الگ وہ ہمارا یوسف نہ اس کا دامن بھی چھو سکے ہم یونہی بت میں گنوائیں آنکھیں ہیں اشک خونیں بہا بہا کر جو کوئی ہے بن بلائے آیا تو اس کو تم کیوں نکالتے ہو ہیں ایسے لاکھوں کہ بزم میں ہو انھیں بٹھاتے بلا بلا کر ہیں چاندنی راتیں لاکھوں گزریں کھلی نہ دل کی گی کبھی بھی وہ عہد جو مجھ سے کر چکا ہے کبھی تو اے بے وفا ہو فاکر جدائی ہم میں ہے کس نے ڈالی خیر تمھیں اسکا کچھ پتا ہے؟ وہ کون تھا جو کہ لے گیا دل ہے مجھ سے آنکھیں ملا ملا کر فراق جاناں میں ساتھ چھوڑا ہر ایک چھوٹے بڑے نے میرا تھی دل پہ اُمید سو اُسے بھی وہ لے گیا ہے لبھا بٹھا کر 70