کلام محمود مع فرہنگ — Page 59
23 وہ خواب ہی میں گر نظر آتے تو خوب تھا کرتے ہوئے کو آ کے چلاتے تو خوب متھا اس بے وفا سے دل نہ لگاتے تو خوب تھا مٹی میں آبرو نہ ملاتے تو خوب تھا دلبر سے رابطہ جو بڑھاتے تو خوب تھا یوں محمد رائیگاں نہ گنواتے تو خوب تھا اک غمزدہ کو چہرہ دکھاتے توخوب تھا روتے ہوئے کو آکے نہاتے تو خوب تھا اک لفظ بھی زباں پہ نہ لاتے تو خوب تھا دُنیا سے اپنا عشق چھپاتے تو خُوب تھا نظروں سے اپنی تم نہ گراتے تو خُوب تھا پہلے ہی ہم کو منہ نہ لگاتے تو خُوب تھا محمود دِل خُدا سے لگاتے تو خوب تھا شیطاں سے دامن اپنا چھڑاتے تو خُوب تھا یونہی پڑے نہ باتیں بناتے تو خُوب تھا کچھ کام کر کے ہم بھی دکھاتے تو خوب متھا 59