کلام محمود مع فرہنگ — Page 55
21 اے میرے مولیٰ میرے مالک میری جاں کی سپر مبتلائے کہ نج و غم ہوں جلد سے میری خبر دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے اب کسی پر تیرے بن پڑتی نہیں میری نظر امن کی کوئی نہیں جا ، خوف دامن گیر ہے سانپ کی مانند مجھ کو کاٹتے ہیں بحر و بر ہاتھ جوڑوں یا پڑوں پاؤں بتاؤ کیا کروں دل میں بیٹھا ہے مگر آتا نہیں مجھ کو نظر جب کہ ہر شے ملک ہے تیری میرے مولی توپھر جس سے تو جاتا رہے مثلا کہ وہ جائے کدھر کام دیتی ہے عصا کا آیت لَاتَقْنِطُوا ور نہ عصیاں نے تو میری توڑ ڈالی ہےکمر بے کسی میں رہزن کرنج و مصیبت آپڑا سب متابع صبر و طاقت ہو گئی زیر وزیر اخبار بدر جلد 7- 3 ستمبر 1908 ء 55