کلام محمود مع فرہنگ — Page 31
11 ہر چار سُو ہے شہرہ ہوا قادیان کا منگن ہے جو کہ مہدی آخر زمان کا سُو آئیں گے اب سیخ دوبارہ زمیں پہ کیوں نظارہ بھا گیا ہے اُنھیں آسمان کا عیسی تو تھا خلیفہ موسی او جاہلو! تم سے بتاؤ کام ہے کیا اُس جوان کا تم امت محمد خير النسل سے ہو ہے لعلف وفضل تم یہ اُسی مہربان کا کہتے ہیں وہ امام تمھارا تھیں سے ہے جو ہے بڑی ہی شوکت وجبروت و شان کا پہنچے گا جلد اپنے کیے کی سزا کو وہ اب بھی گماں جو ہد ہے کسی بد گمان کا ہاں ہو نہ مانے احمد مرسل کی بات بھی کیا اعتبار ایسے شقی کی زبان کا سچ سچ کہو ندا سے ذرا ڈر کے دو جواب کیا تم کو انتظارنہ تھا پاسبان کا آب آگیا تو آنکھیں چراتے ہو کس لیے کیوں راستہ ہو دیکھ رہے آسمان کا جس نے خُدا کے پاس سے آنا تھا آچکا تو آ کے بوسہ سنگ در آستان کا اسلام کو اُسی نے کیا آگے پھر درست ہو کر کس طرح سے ادا مہربان کا سینہ سپر ہوا یہ مقابل میں کفر کے خطرہ نہ مال کا ہی کیا اور نہ جان کا توحید کا سبق ہی جو تعلیم شرک ہے ہاں کفر ہے بتانا اگر حق بیان کا 31