کلام محمود مع فرہنگ — Page 30
10 دوستو ہر گز نہیں یہ ناچ اور گانے کے دن مشرق و مغرب میں ہیں یہ دیں کے پھیلانے کے دن اس چین پر جب کہ تھا دور خزاں وہ دن گئے اب تو ہیں اسلام پر یا رو بہار آنے کے دن ظلمت و تاریکی و ضد و تعصب مٹ چکے آگئے ہیں اب خُدا کے چہرہ دکھلانے کے دن جاہ و حشمت کا زمانہ آنے کو ہے عنقریب رہ گئے تھوڑے سے ہیں اب گالیاں کھانے کے دن ہے بہت افسوس اب بھی گرنہ ایماں لائیں لوگ جب کہ ہر ملک و وطن پر ہیں عذاب آنے کے دن پیش گوئی ہو گئی پوری مسیح وقت کی پھر بہار آئی تو آئے نلج کے آنے کے دن ان دنوں کیا ایسی ہی بارش ہوا کرتی تھی یاں سچ کہو کیا تھے یہ سردی سے ٹھٹھر جانے کے دن دوستو اب بھی کرو تو بہ اگر کچھ مشکل ہے ورنہ خود سمجھائے گا وہ یار سمجھانے کے دن دَزد و دُکھ سے آگئی تھی تنگ اسے محمود قوم اب مگر جاتے رہے ہیں رنج و غم کھانے کے دن اخبار بدر جلد 6 - 28 فروری 1907 ء 30