کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 372

مرے جان و دل کے ایک میری جان نکل رہی ہے تیری یاد چٹکیوں میں میرے دل کو مل رہی ہے جان نہیں بجز دعائے یونس کے رہا کوئی بھی چارہ کہ غم و الم کی مچھلی مجھے اب نکل رہی ہے والم کبھی وہ گھڑی بھی ہوگی کہ کہوں گا یا الہی میری عرض تو نے سن لی وہ مجھے اگل رہی ہے لی اخبار الفضل 22 نومبر 1920ء عبث ہیں بارغ احمد کی تباہی کی یہ تدبیریں چھپی بیٹھی ہیں تیری راہ میں مولیٰ کی تقدیریں بھلا مومن کو قابل ڈھونڈنے کی کیا ضرور ہے نگاہیں اس کی پھلی ہیں تو آہیں اُس کی شمشیریں تری تقصیر خودہی تجھ کو لے ڈوبیں گی اسے ظالم لپیٹ جائیں گی تجھے پاؤںمیں وہ بن کے زنجیریں اخبار الفضل 30 دسمبر 37 نظر آرہی چمک وُہ حُسنِ ازن کی شمع حجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں لے 1937 سمندر سے ہوائیں آرہی ہیں مرے دل کو بہت گرما رہی ہیں عرب جو ہے میرے دلبر کا مسکن بُوٹے خوش اس کی لے کر آ رہی ہیں بشارت دینے سب خورد و کلاں کو اُچھلتی کودتی وہ آ رہی ہیں امه بتقریب جلد سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم منتقده مورخہ 11 دسمبر 1930 و مسجد اقصی میں بعد نماز عصر حضرت مصلح موعود نے اپنی تقریریں خود یہ اشعار بیان فرمائے۔(ناشر) 367