کلام محمود مع فرہنگ — Page 371
ہائے کثرت میرے گناہوں کی وائے کوتاہی میری آہوں کی اس پر یہ فضل یہ گرم یہ رحم کیا طبیعت ہے بادشاہوں کی بدر 30 جون 1910ء ہائے اس غفلت میں ہم یاروں سے پیچھے رہ گئے پیجی کیسا پیار ہے پیاروں سے پیچھے رہ گئے بڑھ گئے ہم سے صحابہ توڑ کر ہر ردوک کو ہم سٹیک ہو کر گراں باروں سے پیچھے رہ گئے بلکہ 20 جولائی 1910ء عابد کو عبادت میں مزا آتا ہے قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے میں تو بندہ عشق ہوں مجھے تو صاحب دلبر کی محبت میں مزا آتا ہے الفضل 3 اگست 1910 م مرکز شرک سے آوازہ توحید اُٹھا دیکھنا دیکھنا مغرب سے ہے خورشید اُٹھا نور کے سامنے ظلمت بھلا کیا ٹھہرے گی جان لو جلد ہی اب تسلیم صنادید اُٹھا 21 ستمبر 1920 اُٹھی آواز جب اذاں کی اللہ کے گھر سے تو گونج اُٹھے گا کندن نعو الله اکبر اُڑے گا پرچم توحید پھر کشف معلی پر ملیں گے دھکے دیو شرک و گھر گھرسے دور سے افضل 11 اکتوبر 1920۔366