کلام محمود مع فرہنگ — Page 341
186 کچھ دن کی بات ہے بارہ بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو زبان پر یہ اشعار جاری تھے گویا یہ غزل انقالی ہے۔ہاں اتنا فرق ہے کہ پہلا شعر تو لفظ بلفظ یا د رہا ہے اور باقی اشعار میں سے اکثر ایسے ہیں جن کے بعض لفظ تو بھول گئے اور جاگنے پر خود اس کمی کو پورا کیا گیا اور دو تین شعر ایسے ہیں جو سارے کے سارے جاگنے پر بنائے گئے۔اب یہ سب اشعار اشاعت کے لیے الفضل کو بھجوائے جاتے ہیں۔(مرزا محمود احمد) اے خُدا دل کو میرے مزارع تقومی کر دیں ہوں اگر بد بھی تو تو بھی مجھے اچھا کر دیں میری آنکھیں نہیں آپ کے چہرہ سے کبھی دل کو وارفتہ کریں محو تماشا کر دیں دانہ سنجه پراگندہ ہیں چاروں جانب ہاتھ پر میرے انہیں آپ اکٹھا کر دیں پر ساری دنیا کے پیاسوں کو کروں میں سیراب چشمه شور بھی ہوں گر مُجھے میٹھا کر دیں میں بھی اس سید یعنی کا غلام در ہوں دَم سے روشن مرسے بھی وادی بطحا کر دیں ٹیڑھے رستہ پر چلے جاتے ہیں تیرے بندے پھیر لائیں انھیں اور راہ کو سیدھا کر دیں منتظر بیٹھے ہیں دروازہ پر عاشق اسے کب تھوک دیں غصہ کو دروازہ کو پھر دا کر دیں احمدی لوگ ہیں دنیا کی نگاہوں میں وکیل اُن کی عزت کو بڑھائیں انہیں اونچا کر دیں میرے قدموں پہ کھڑے ہوکے تجھے بکھیں لوگ دیت را براللہ مجھے اس کا مصلے کر دیں 337