کلام محمود مع فرہنگ — Page 328
181 میں نے مانا مرے دلبر تیری تصویر نہیں تیرے دیدار کی کیا کوئی بھی تذبیر نہیں سب ہی ہو جائیں مسلماں تیری تقدیر نہیں یا دُعاؤں میں ہی میری کوئی تاثیر نہیں دل میں بیٹھے کہ سمائے میری آنکھوں میں تو میری تعظیم ہے اس میں تری تحقیر نہیں دل رہا کیا ہے جو دل نہ نبھائے میرا سینے کے پار نہ ہو جائے تو وہ تیر نہیں ہے قیادت سے بھی پر تخلف اطاعت مجھ کو ہوں توئیں ہے مگر شکر ہے بے پیر نہیں صاف ہو جائے دل کا فر و مت کہ جس سے تیری تقدیر میں ایسی کوئی تدبیر نہیں اس کی آواز پہ پھر کیوں نہیں کہتے کینک طوق گردن میں نہیں پاؤں میں زنجیر نہیں مجھ سے وخشی کو کیا ایک اشارے ہیں رام کیا یہ جادو نہیں کیا روح کی تسخیر نہیں سبق آزادی کا دیتے ہیں دل عاشق کو اُن کی زُلفوں میں کوئی زُلف گرہ گیر نہیں کوئی دشمن اُسے کر سکتا نہیں مجھ سے جدا ہے تصور ترا دل میں کوئی تصویر نہیں ان کی جادو بھری باتوں پہ مرا جاتا ہوں قتل کرتے ہیں مگر ہاتھ میں شمشیر نہیں جس کی تھی چیز اسی کے ہی حوالے کر دی دے کے دل خوش ہوں میں اس بات پر دلگیر نہیں جس پر عاشق ہوا ہوں میں، وہ اسی قابل تھا خود ہی تم دیکھ لو اس میں میری تقصیر نہیں پر روح انسانی کو جو بخشے چلا ہے اکسیر میں کو چھو کر جو طلاء کر دے وہ اکسیر نہیں اخبار الفضل جلد 8 لاہور پاکستان 17 دسمبر 1954 ء 326