کلام محمود مع فرہنگ — Page 329
182 تصویر کا پہلا رخ کر رہا ہے بھوک کی شدت سے بے چارہ غریب ڈھالنے کوئن کے گاڑھا تک نہیں اس کو نصیب کھاتے ہیں زردہ پلاؤ قورما و شیر مال مخملی دوشالے اوڑھے پھرتے ہیں اس کے رقیب تیرے بنے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں انطبل میں گھوڑے ہیں میں بھی میں چھ شیر دار سبزے کی کثرت سےگھر بھی بن رہا ہے مرغزار لب یہ اُن کے قبقے ہیں اُن کی آنکھوں میں بہار روح انسانی ہے پر خاموش میٹھی سوگوار تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں جب وہ آئے تو پہلے اس سے مرتے ہیں غریب مال داروں کو مگر لگتے ہیں ٹیکے رہے عجیب موت میں کے پاس ہے، ہے وہ تو محروم دوا اور جو محفوظ ہیں ان کو دوائیں ہیں نصیب تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں نور قرآن کی جاتی ہے زمانہ بھر میں آج احمد ثانی نے رکھ لی احمد اول کی لاج کفر نے بت توڑ ڈالے دیر کو ویراں کیا پر مسلمانوں کے گھرمیں ہے جہالت ہی کا راج تیرے بندے اسے خُدادُنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں 327