کلام محمود مع فرہنگ — Page 308
163 جو کچھ بھی دیکھتے ہو فقط اُس کا نور ہے درنہ جمال ذات تو کوسوں ہی دُور ہے ہے ہر گھڑی کی امت و ہر لمحہ معجزہ یہ میری زندگی ہے کہ حق کا ظہور ہے دیکھا نہ تو نے آئینہ خانہ میں بھی جہال تیری تو عقل میں کوئی آیا فتور ہے مُردہ دلوں کے واسطے ہر لفظ ہے حیات میری صدا نہیں یہ فرشتوں کا صُور ہے ہے زندگی میں دخل نہ کچھ موت پر ہے زور تو چیز کیا ہے ایک سر پغور ہے ده زشت رُو کہ جس سے چھ ٹیلیں بھی خوف کھائیں اس کو بھی دیکھئے کہ تمنائے خور ہے اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 11 نومبر 1951 ء 306 ا جولائی 1948 ء سندھ)