کلام محمود مع فرہنگ — Page 307
162 ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے ٹھیس لگ جائے ذراسی تو صدا کرتا ہے میں بھی کمزور میرے دوست بھی کمزور تمام کام میرے تو سبھی میرا خُدا کرتا ہے ہوش کہ دشمن ناداں یہ تو کیا کرتا ہے ساتھ ہے جس کے خُدا اُس پہ جفا کرتا ہے زندگی اُس کی ہے دن اُس کے ہیں، راتیں اُس کی وہ جو محبوب کی محبت میں رہا کرتا ہے قلب مومن پہ ہے انوار سمادی کا نزول روشن اس جنگ کو یہ اللہ کا دیا کرتا ہے 1 1946ء کراچی کے سفر میں) اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 11 نومبر 1951 ء 305