کلام محمود مع فرہنگ — Page 300
157 نوٹ اُردو میں عام طور پر ہٹائے نہیں مشتی، بولا جاتا ہے اور وہاں یہ مراد ہوتا ہے کہ انسان مٹانا چاہتا ہے مگر نشان نہیں مٹتا۔اس کے بر خلاف ایک نقش ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خود تو اسے مٹانا نہیں چاہتا، لیکن مرور زمان سے وہ کمزور پڑتا جاتا ہے، چونکہ میں نے اسی مضمون کو لیا ہے، اس لیے بجائے مٹائے نہیں مٹتی' کے مٹتے نہیں مٹتی استعمال کیا ہے۔جاہل ادیبوں کے نزدیک یہ بات ناجائز تصرف معلوم ہوگا۔مگر واقعوں کے نزدیک مفید اضافه - مرزا محمود احمد (۲۸ جولائی ۹۵ شه) یہ کیسی ہے تقدیر جو مٹتے نہیں مٹتی پتھر کی ہے تحریر جو مٹتے نہیں مٹتی سب اور تصور تو میرے دل سے مٹے ہیں ہے اک تری تصویر جو مٹتے نہیں مٹتی اب تک ہے میرے قلب کے ہر گوشہ یں موجود ان لفظوں کی تاثیر جو مٹتے نہیں مٹتی کسی زور سے کعبہ میں کہی تم نے میری جاں اک گونجتی تکبیر جو مٹتے نہیں مٹتی انسان کی تدبیر پر غالب ہے ہمیشہ اللہ کی تدبیر جو مٹتے نہیں مٹتی ہے ڈلہوزی و شملہ کی تو ہے یاد ہوئی تو ہے خواہش کشمیر جو مٹتے نہیں ہٹتی اسلام کو ہے اور ملا نور خدا سے ہے ایسی یہ تنویر جو مٹتے نہیں مٹتی کن کہہ کے نیا باب بلاغت کا ہے کھولا ہے چھوٹی سی تقریر جو مٹتے نہیں ملتی اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 31 جولائی 1951 ء 298