کلام محمود مع فرہنگ — Page 299
156 زمیں کا بوجھ وہ سر پر اٹھائے پھرتے ہیں اک آگ سینہ میں اپنے دبائے پھرتے ہیں وہ جس نے ہم کو کیا برسرِ جہاں رُسوا اُسی کی یاد کو دل میں چھپائے پھرتے ہیں دہ پھول ہونٹوں سے اُن کے جھڑے تھے جو اک بار انہی کو سینہ سے اپنے لگائے پھرتے ہیں ہماری جان تو ہاتھوں میں اُس کے بے کٹو جدھر بھی، جب بھی وہ اس کو پھرائے پھرتے ہیں وہ دیکھ لے تو ہر اک ذرہ پھول بن جائے وہ موڑے منہ تو سب اپنے پرائے پھرتے ہیں خدا تو عرش سے اُترا ہے مُنہ دکھانے کو پر آدمی ہیں کہ بس منہ بنائے پھرتے ہیں اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 19 جولائی 1951 ء 297