کلام محمود مع فرہنگ — Page 233
104 یہ نور کے شعلے اُٹھتے ہیں میرا ہی دل گرمانے کو جو بجلی انق میں چکی ہے چکی ہے مرے تڑپانے کو یا بزم طرب کے خواب نہ تو دکھلا اپنے دیوانے کو یا جام کو حرکت دے لیلیٰ اور چکر دے پیمانے کو پھر عقل کا دامن چھٹتا ہے پھر وحشت جوش میں آتی ہے جب کہتے ہیں وہ دنیا سے چھیڑو نہ مرے دیوانے کو کچھ لوگ وہ ہیں جو ڈھونڈتے ہیں آرام کوٹھنڈے سایوں میں پرپڑتی ہے تسکین دل جلنے میں ترے پروانے کو یہ میری حیات کی انجمن تو ہر روز ہی بڑھتی جاتی ہے دہ نازک ہاتھ ہی چاہیئے ہیں اس گنتی کے نبھانے کو عرفان کے رازوں سے جاہل تسلیم کی راہوں سے غافل جو آپ بھٹکتے پھرتے ہیں آئے ہیں میرے سمجھانے کو 231 * 1940 أخبار الفضل جلد جولائی 9-28