کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 213

91 حضرت سیڈ سارہ بنگیر کی وفات پر کو رحم اسے رسیم میرے حال زار پر زخم جگہ پر درد دل بے قرار پر مجھے پر کہ ہوں عزیزوں کے حلقہ میں شل غیر اس بے کس و نحیف و غریب الدیار پر جس کی حیات اک ورق سوز و ساز تھی جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر مقصود جس کا علم و تقی کا حصول تھا رکھتی تھی ہو نگہ نگر گلف یار پر تھی کا حصل حیات کا اک سعی ناتمام کائی گئی غریب حوادث کی دھار پر دل کی امیدیں دل ہی میں سب دن گی نہیں پائے اُمید ثبت رہا انتظار پر دل ہاں اے مغیث سُن لے میری التجا کو آج کہ رحم اس وجود محبت شعار پر اس کے گیار بادہ اُلفت کی رُوح پر اس بوستان عشق و وفا کی مزار پر ہاں اُس شہید علم کی تربت پہ کر نزول خوشیوں کا باب کھول غموں کی انکار پر میری طرف سے اس کو جزا ہم نے نیک دے کہ رحم اسے جسیم دل سوگوار پر حاضر نہ تھا وفات کے وقت اسے مے خُدا بھاری ہے یہ خیال دل ریش وزار پر ڈرتا ہوں وہ مجھے نہ کہے بازبان حال جاؤں کیسی دُعا کو جو اس کے مزار پر جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر لے حضور کی حرم محترمہ جنہوں نے ۱۹۳۳ میں وفات پائی۔أخبار الفضل جلد 21-19 جولائی 1934 ء 211