کلام محمود مع فرہنگ — Page 214
92 آہ پھر موسم بہار آیا دل میں میرے خیالِ یار آیا لالہ و گل کو دیکھ کر محمود یاد مجھ کو وہ گلزار آیا زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر چمن سے میں اشکبار آیا خون رلاتا تھا لالہ زار کائنگ مجلس یار کی بہار کا رنگ تازہ کرتے تھے یاد اس کی پھول یاد آتا تھا گلزار کا رنگ لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا سبزۂ گیاہ کا کہوں کیا حال چنہ چنہ پر ڈالتا تھا حال مست نظارۂ جمال تھے سب آنکھیں دُنیا کی ہو رہی تھیں لال زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر چمن سے میں اشکبار آیا ئیں وہاں ایک اور خیال میں تھا کیا کہوں میں بنالے حال میں تھا سبزہ اک عکس زُلف جاناں ہے یہ تصور ہی بال بال میں تھا 212