کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 191

80 پہنچائیں در پہ یار کے وہ بال و پر کہاں دیکھے جمالِ یار جو ایسی نظر کہاں کر دے رسا دعا کو میری وہ اثر کہاں دھو دے جو سب گند مرے دو تیم تر کہاں ہر شب اسی اُمید میں سوتا ہوں دوستو! شاید ہو وصل یار میسر ، مگر کہاں سجدہ کا اذن دے کے مجھے تاج ور کیا پاؤں ترے کہاں میرا ناچیز سر کہاں میری طرح ہر اک ہے یہاں منبتلائے عشق حیران ہوں کہ ڈھونڈوں میں اب نامہ یہ کہاں از بس کہ افعال سے دل آب آب تھا آنکھوں سے ہو گیا میرا نورِ نظر کہاں لیس فرقت میں تیری ہر جگہ ویرانہ بن گئی آب زندگی کے دن یہ کروں میں بستر کہاں ہر لحظہ انتظار ہے ہر وقت جستجو رہتا ہے اب تو منہ پہ مرے میں کدھر کہاں اب جب نقد جان سونپ دیا تجھ کو جان من پاس اسکے بھلا مرے خوف وخطر کہاں کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں کہاں نہیں جب جان کی خبر نہیں کن کی خبر کہاں حیران ہوں کہ دن کسے کہتے ہیں دوستو! سُورج ہی جب طلوع نہ ہو تو سحر کہاں عاشق کے آنسوؤں کی ذرا آب دیکھ لیں ہیرے کہاں ہیں نفل کہاں ہیں گہر کہاں وزد آشنائی غم ہجراں میں یہیں کہاں فرقت نصیب مادر و فاقد پدر کہاں اے دل اسی کے در پر بیس اب جا کے بیٹھ جا مارا پھروں گا ساتھ ترے در بدر کہاں پہ 189