کلام محمود مع فرہنگ — Page 183
آب نکلوں تو کس طرح ان آفات سے نکلوں یہ ایسا سمندر ہے نہیں جس کا کنارہ سالک تھا اسی فکر و غم و رنج میں ڈوبا ناگاہ اُسے ہالیفِ غیبی نے پکارا اے صید مصائب نگہ یار کے کشتے جس نے تجھے مارا ہے وہی ہے ترا چارہ تکلیف میں ہوتا نہیں کوئی بھی کسی کا احباب بھی کر جاتے ہیں اس وقت کنارہ مرتا ہے تو اس در پہ ہی کراچی تو وہیں ہی ہوگا تو وہیں ہو گا تیرے درد کا چارہ مانا کہ تیرے پاس نہیں دولت اعمال مانا ترا دنیا میں نہیں کوئی سہارا پر صورت احوال اُنہیں جا کے بتا تُو شاہاں چه عجب گر بنوازند گدا را اخبار الفضل مجلد 13 - 9 جولائی 1925 ء 181