کلام محمود مع فرہنگ — Page 162
64 کیوں غلامی کروں شیطاں کی خُدا کا ہو کر اپنے ہاتھوں سے بڑا کیوں بنوں اچھا ہو کر مدعا تو ہے وہی جو رہے پورا ہوکر انتا ہے وہی جو کوٹے پذیرا ہو کر درد سے ذکر ہوا پیدا ، ہوا ذکر سے جذب میری بیماری لگی مجھ کو مسیحا ہو کر رہ گیا سایہ سے محروم ہوا بے برکت منرو نے کیا لیا احباب سے اُونچا ہو کر جب نظر میری پڑی ماضی پر دل خون ہوا جان بھی تن سے مری نکلی پینہ ہو کر چاہیے کوئی تو تقریب زخم کے لیے میں نے کیا لینا ہے اے دوستو اچھا ہو کر نہ ملیں تو بھی دھڑکتا ہے میں تو بھی اے دل تجھ کو کیا بیٹھنا آتا نہیں نچلا ہو کر 161