کلام محمود مع فرہنگ — Page 163
حسن ظاہر پر نہ تو بُھول کہ سوحسرت و غم چھوڑ جائے گا بس آخر یہ تماشا ہو کر اُس کی ہر جنبشِ لب کرتی ہے مُردے زندہ حشر دکھلائے گا اب کیا ہمیں برپا ہو کر دل کو گھبرا نہ سکے لشکرِ افکار و تموم بارك الله ! لڑا خوب ہی تنہا ہو کر ہائے وہ شخص کہ جو کام بھی کرنا چاہے دل میں رہ جائے وہی اُس کے تمنا ہو کر ایسے بمیار کا پھر اور ٹھکانا معلوم دے سکے تم نہ شفا جس کو مسیحا ہو کر وہ غنی ہے یہ نہیں اس کو یہ ہرگز بھی پند غیر سے تیرا تعلق رہے اس کا ہو کر ذلت و نکبت و خواری ہوئی مسلم کے نصیب دیکھئے اور ابھی رہتا ہے کیا کیا ہو کر 162