کلام محمود مع فرہنگ — Page 97
40 کیا سبب میں ہو گیا ہوں اس طرح زار و نزار کس مصیبت نے بنایا ہے مجھے نقشِ مدار کیوں پھٹا جاتا ہے سینہ جیب عاشق کی مثال روز و شب صُبح و مسا رہتا ہوں میں کیوں دل نگار کیوں تسلی اس دلِ بے تاب کو ہوتی نہیں کیا سبب اس کا کہ رہتا ہے یہ ہر دم بے قرار محبت عیش و طرب اس کو نہیں ہوتی نصیب درد و غم رنج و الم یاس وتلق سے ہے دوچار کیا سبب جو خُون ہو کہ بہہ گیا میرا جگر بھید کیا ہے میری آنکھیں جو رواں ہیں کھیل وار زرد ہے چہرہ تو آنکھیں گھس گئیں حلقوں میں ہیں جنم میرا ہو گیا ہے خُشک ہو کر مثل خار سوچتا رہتا ہوں کیا دل میں مجھے کیا فکر ہے جستجو میں کس کی چلاتا ہوں میں دیوانہ وار 97