کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 93

ہیں اس دنیا میں جتنے لوگ حق ہیں سچائی سے جنہیں کوئی نہیں کیں دہ دل سے مانتے ہیں اس کی خوبی دہ پاتے ہیں اسی میں دل کی تسکیں خُدا نے فضل سے اپنے ہمیں بھی کھلائے اس کے ہیں انار شیریں حفیظہ جو میری چھوٹی بہن ہے نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں ہوئی جب ہفت سالہ تو خُدا نے یہ پہنایا اُسے بھی تاج زریں کلام اللہ سب اس کو پڑھایا بنایا گلشن قرآں کا گل چیں زباں نے اس کو پڑھے کہ پانی بزرگ ہوئیں آنکھیں بھی اس سے نور آگیں اکٹھے ہو رہے ہیں آج احباب منائیں تا کہ مل کر روز آئیں ہوئے چھوٹے بڑے ہیں آج شاداں نظر آتا نہیں کوئی بھی غمگیں خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْلَى الْأَمَانِي النبی جیسی یہ دولت عطا کی ہمیں توفیق دے صدق وصفا کی تر سے چاکر ہوں ہم پانچوں الہی ہمیں طاقت عطا کرہ تو وفا کی تری خدمت میں پائیں جان و دل کو گھڑی جب چاہے آجائے قضا کی رہیں ہم دُور ہر بد کیش و بد سے رہے صُحبت ہمیں اہلِ وفا کی 93