کلام محمود مع فرہنگ — Page 92
یہ نعمت ہم کو بے خدمت ملی ہے سکھایا ہے ہمیں مولیٰ نے قرآں خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْلَى الْأَمَانِي کلام اللہ میں سب کچھ بھرا ہے یہ سب بیماریوں کی اک دوا ہے ہی اک پاک دل کی آرزو ہے یہی ہر منتقی کا مدعا ہے یہ جامع کیوں نہ ہو سب خوبیوں کا کہ اس کا بھیجنے والا خُدا ہے مٹا دیتا ہے سب رنگوں کو دل سے اسی سے قلب کو ملتی چلا ہے یہ ہے تسکیں دِهِ عُشاق مُضْطَر مریضان محبت کو شفا ہے حضر اس کے سوا کوئی نہیں ہے یہی بھولے ہوؤں کا رہنما ہے جو اس کی دید میں آتی ہے لذت دہ سب دُنیا کی خوشیوں سے سوا ہے جو ہے اس سے الگ حق سے الگ ہے جو ہے اس سے جدا حق سے جدا ہے یہ سے بے عیب ہر نقص و کمی سے کرے جو حرف گیری بے کیا ہے ہمیں حاصل ہے اس سے دید جاناں کہ قرآں منظرشان خُدا ہے خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْلَى الْآمَانِي 92