کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 71

ہزار کوشش کرے کوئی پر وہ مجھ سے عہدہ برآ نہ ہو گا جسے ہو کچھ زعم آزمالے ہوں کہتا ڈنکا بجا بجا کر یہ چھپ کے کیوں چنگیاں ہے لیتا تجھے بھلا کس کا ڈر پڑا ہے جو شوق ہو دل کو چھیڑنے کا تو شوق سے بر ملا ملا کر یہی ہے دن رات میری خواہش کہ کاش مل جائے وہ پری رُو مٹاؤں پھر بے قراری دل گلے سے اس کو لگا لگا کر جو مارنا ہے تو تیر مژگاں سے چھید ڈالو دل وجگر کو نہ مجھ کو تڑ پاؤ اب زیادہ تم آئے دن یوں ستاستا کر خدا پر الزام بے وفائی یہ بات محمود پھر نہ کہیٹو ہوا تجھے بندہ خدا کیا ، خدا خدا کر ، خُدا خُدا کر جو کوچہ عشق کی خبر ہو تو سب کریں ایسی بے حیائی یہ اهل ظاہر جو مجھ سے کہتے ہیں کچھ تو اسے بے حیا احیا کر اشتہار بدر جلد 8 - 18 مارچ 1909ء 71