کلام محمود مع فرہنگ — Page 49
19 باب رحمت خود بخود پھر تم پر کا ہو جائے گا جب تمھارا قادر مطلق خُدا ہو جائے گا دشمن جانی جو ہو گا آشنا ہو جائے گا بُوم بھی ہو گا اگر گھر میں نما ہو جائے گا آدمی تقوی سے آخر کیمیا ہو جائے گا جس جس دل سے چھوٹے گا وہ طلا ہو جائے گا جو کہ شمع رُوئے دلبر پر فدا ہو جائے گا خاک بھی ہو گا تو پھر خاک شفا ہو جائے گا جو کوئی اس یاد کے در کا گدا ہو جائے گا ملک رُوحانی کا وہ فرماں روا ہو جائے گا جس کو تم کہتے ہو یارو یہ فنا ہو جائے گا ایک دن سارے جہاں کا پیشوا ہو جائے گا گفرمٹ جائے گا زور اسلام کا ہو جائے گا ایک دن حاصل ہمارا مدعا ہو جائے گا 49