کلام محمود مع فرہنگ — Page 26
یہ ایک دریائے معرفت ہے ، لگائے اس میں جو ایک غوطہ تو اس کی نظروں میں ساری دُنیا فریب ہے جھوٹ ہے دنا ہے مگر مسلمانوں پر ہے حیرت جنھوں نے پائی ہے ایسی نہ دلوں پر چھائی ہے پھر بھی غفلت نہ یاد عقبی ہے نے خُدا ہے نہیں ہے کچھ دیں سے کام ان کا یونہی مسلماں ہے نام ان کا ہے سخت گندہ کلام ان کا ، ہر ایک کام ان کا فتنہ زا ہے زمیں سے جھگڑا فلک سے قضیبہ یہاں ہے شور اور وہاں شرابا نہیں ہے اک دم بھی چنین آتا خبر نہیں ان کو کیا ہوا ہے یہ چلتے ہیں یوں اکٹر اکڑ کر کہ گویا اُن کے ہیں بحر اور پر پڑے ہیں ایسے سمجھ پہ پتھر۔کہ شرم ہے کچھ نہ کچھ حیا ہے لڑیں گے آپس میں بھائی باہم۔نہ ہو گا کوئی کسی کا ہندنم میرا پیارا رسُولِ اکرم یہ بات پہلے سے کہہ گیا ہے نہ دل میں خوف خدا رہے گا نہ دین کا کوئی نام لے گا فلک پر ایمان جا چڑھے گا یہی ازل سے لکھا ہوا ہے 26