کلام محمود مع فرہنگ — Page 22
تقدیر سے ہو چکا مقدر قسمت میں تمھاری زلزلہ ہے وہ دن کہ جب آئے گی مصیبت آنکھوں میں ہماری گھومتا ہے حیرانی میں ایک دوسرے سے اُس دن یہ کہے گا ہیں یہ کیا ہے؟ چکھیں گے مزا عذاب کا جب جائیں گے کہ ہاں کوئی خدا ہے پتھر بھی پکار کر کہیں گے ان کافروں کی یہی سزا ہے اے قوم خُدا کے واسطے تو بتلا کہ ہو تیرا مدعا ہے حق نے جسے کر دیا ہے کامور تسلیم میں اُس کی عذر کیا ہے اللہ سے چاہو عفو تقصیر دیتا ہے اُسے جو مانگتا ہے محمود خدائے لم یزل سے ہر وقت ہی میری دُعا ہے اُس شخص کو شاد رکھے ہر دم جو دین قویم پر فدا ہے اور اس کو نکالنے ظلمتوں سے جو شرک میں کفر میں پھنسا ہے اخبار بدر جلد 5 - 20 ستمبر 1906 ء - 22