کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 17

دیکھ کر تیرے نشانات کو اسے مہدی وقت آج انگشت بدندان ہے سارا عالم مال کیا چیز ہے اور جاں کی حقیقت کیا ہے آبرو تجھ پر فدا کرنے کو تیار ہیں ہم غرق ہیں بحر معاصی میں ہم اسے پیارے میسیح! پار ہو جائیں اگر تو کرے کچھ ہم پہ گرم آج دُنیا میں ہر اک سُو ہے شرارت پھیلی پھنس گئی پنجہ شیطاں میں ہے نسلِ آدم اب ہنسی کرتے ہیں احکام الہی سے لوگ نہ تو اللہ ہی کا ڈر ہے نہ عشبی کا غم کوئی اتنا تو بتائے یہ اکڑتے کیوں ہیں بات کیا ہے کہ یہ پھرتے ہیں نہایت خیم بات یہ ہے کہ یہ شیطاں کے فسوں خوردہ ہیں ان کے دل میں نہیں کچھ خوف خدائے کائم 17